Ghazal - Hawa Mein Urtay Howay Badbaan Nahi Guzray
May 11, 2007 on 12:40 pm | In Tere Naam Kee Aahat |ہوا میں اڑتے ہوئے بادباں نہیں گزرے
برستے بادلوں کے کارواں نہیں گزرے
وہ بد گمانی کی پرچھائیوں میں رہتا ہے
اُدھر یقیں کے کبھی سائباں نہیں گزرے
میںجن کی آ نکھوں میں سب اپنے خواب رکھ دیتی
مری نگاہ سے وہ مہرباں نہیں گزرے
محبتوں کے سفر میں یہ کون کہتا ہے
کہ دشتِ چشم سے آبِ ر واں نہیں گزرے؟
جہاں بھی چاہے اُڑا کر مجھے وہ لے جائے
صدا کی لہر سے ایسے گماں نہیں گزرے!
مئے حیات کی تلخی سبھی کا حصّہ تھی
جو میرے جیسے تھے تشنہ لباں ، نہیں گزرے
تری صدائے مسلسل کی گونج تھی، پھر بھی
’’ترے خیال پہ کیا کیا گماں نہیں گزرے‘‘
1 Comment »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^
Assalam-o-Alikum WR WB
uffffff kya zalim likha hay aap nay
FeamnAllah
Comment by Sargoshi — January 20, 2008 #