Ghazal - Chandini Ban Kay Jab
May 11, 2007 on 12:06 pm | In Tere Naam Kee Aahat |چاندنی بن کے جب اُس چاند کا سایہ نکلے
گُلشنِ جاں سے مرے خوشبو کا جھونکا نکلے
بند ہوں پلکیں تو احساس کی خوشبو جاگے
اور وا ہوں تو تصوّر کا کرشمہ نکلے
تیرے آتے ہی اندھیروں سے اُجالے جاگیں
تیرے جاتے ہی اُجالوں سے اندھیرا نکلے
کانپتا ہے مرے ہاتھوں پہ ترے ہاتھ کا لمس
پھر یقیں پر وہی انداز گماں کا نکلے
میں ہوں بجھتے ہوئے سورج کی کوئی زرد لکیر
جاگے تو دن ڈھلے سوئے تو اندھیرا نکلے
اپنے ہی ہاتھوں کہاں تک یونہی مرتی رہوں میں
اپنے ہی کندھوں پہ کب تک یہ جنازہ نکلے
کوئی اندھا، کوئی بہرا، کوئی گونگا ناہید
صنم اِس خانہِ دل کے مرے کیا کیا نکلے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^