Ghazal - Bahar Amayez Yeh Mooj e Saba
May 11, 2007 on 12:37 pm | In Tere Naam Kee Aahat |بہار آمیز یہ موجِ صبا کچھ اور کہتی ہے
مگر ہر سُو اداسی کی فضا کچھ اور کہتی ہے
خزاں کے موسموں کا زرد پتّہ ہو گیا ہے دل
تو کیوں مجھ سے ہواؤں کی نوا کچھ اور کہتی ہے؟
دھنک کے رنگ بکھرے ہیں مرے چاروں طرف تو کیوں؟
مرے سوکھے گلابوں کی صدا کچھ اور کہتی ہے
مرے سر پر چمکتا آسماں ہے تیری قُربت کا
ستاروں سے مگر خالی ردا کچھ اور کہتی ہے
یقیں سے بے یقینی کا سفر بھی طے کیا میں نے
مگر پھر بھی ترے دل کی رضا کچھ اور کہتی ہے
مرا بے ساختہ پن سب ادھورا رہ گیا ناہید
مری خاموشیوں کی اب صدا کچھ اور کہتی ہے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^