Ghazal - Ankhoon mein tairtay hein jo Khawb Shabnami Say
May 11, 2007 on 11:38 am | In Tere Naam Kee Aahat |آنکھوں میں تیرتے ہیں جو خواب شبنمی سے
ہر پل دمک رہی ہوں میں اُن کی روشنی سے
ہونٹوں پہ میرے کیسے ہیں راگ سرمدی سے
جھرنے سے پھوٹتے ہیں لہجے کی نغمگی سے
تُو درد بھی دعا بھی، تُو زخم بھی دوا بھی
شکوے بھی ہیں تجھی سے اور پیار بھی تجھی سے
مجھ سے کبھی ملو تو، چپکے سے پوچھنا تم
منظر سے ہٹ گئی کیوں ناہید خامشی سے
کیسے تجھے بتائیں، کیسے تجھے دکھائیں
دل زخم زخم کتنا ہے تیری دوستی سے
تُو شام بن کے آیا، تُو رات بن کے چھایا
وہ بے خودی ہے مجھ پر، ہوں دُور زندگی سے
اوراقِ زندگی پر سب داستاں رقم ہے
کیوں ایسے جی رہی ہے ناہید بے دلی سے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^