Ibtadaiyeah - Peeli Dhoop

May 11, 2007 on 12:45 pm | In Tere Naam Kee Aahat | No Comments

پیلی دھوپ

 لفظ کبھی کبھی اتنے امیر ہوتے ہیں کہ اپنے معانی خود ہی تخلیق کر لیتے ہیں اور کبھی کبھی اتنے ضرورت مند ہو جاتے ہیں کہ تھکن سے چور طویل راستوں پر گرتے پڑتے کشکولِ سخن اٹھا کر مفہوم کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ کبھی ایک ’’حرفِ اقرار‘‘ زندگی میں بہاروں کی روشنیاں قطار اندر قطار سجاتا چلا جاتا ہے تو کبھی ایک ’’لفظِ انکار‘‘ پلک جھپکنے کی ساعت میں دھڑکتی ہوئی زندگی میں جلتی بجھتی سانسوں کی حرارت سے ہی راکھ کے انبار لگادیتاہے۔

 کہیں پر ہَوا راہ بھٹکے ہوئے جگنوؤں کو راستہ دکھاتی ہے تو کہیں منزلیں آ آ کر مسافروں کے قدموں پر لوٹتی ہیں، کہیں راستہ کھو بھی جائے تو منزل ہاتھوں میں نظر آتی ہے اور کہیں ’’صحیح‘‘ راہ پر چلتے ہوئے بھی قدموں سے تھکن کی آواز آنے لگتی ہے مگر پھر بھی منزلوں کے نشاں نہیں ملتے۔ کبھی یوں بھی ہُوا کہ کسی ’’اور‘‘ کی سوچ کے جلتے ہوئے دئیے کے آس پاس سے بھی اگر ہَوا کا جھونکا گزرااور اس کی لَو ٹمٹمانے لگی تو اُس ’’فنا‘‘ کے کرب کو میں نے خود میں محسوس کیا اور کبھی ایسا ہوا کہ میرا اپنا آپ کسی انجانے موسم کی ضرب سے چُور چُور بھی ہوا تو اس کو خود میرا اپنا بدن نہیں سن سکا۔

 آگہی کے اس سفر میں میں نے ہوا سے باتیں بھی کیں اور بادلوں کے کندھوں پر اپنے دکھ بھی رکھے۔ کبھی کبھی مجھے یہ بھی محسوس ہُوا جیسے میرے تمام دکھ بادلوں نے اوڑھ لیے ہیں ۔ اور کبھی میں نے دکھ کے احساس سے نجات کے لیے بے شمار دعائیں بھی کیں مگر ہمیشہ کی طرح میں خسارے میں رہی کہ مجھے لب ہلا کر خُدا سے مانگنا ہی آ سکا اور نہ ہی اپنی سوچ کو دعاؤں کی تسبیح میں ڈھالنا آسکا۔ میں نے اپنے اندر کے زرد موسموں کے سبز ہونے کی بڑی خواہش کی، بڑی تگ و دو بھی کی مگر سفر کے آغاز میں ہی جب حالات کی سنگینی کی جلتی دھوپ جھلسانے لگے تو اُنگلیوں کی پوروں پر لمحے شمار کرتے ہوئے زندگی کرنا ممکن نہیں رہتا ۔ زندگی ۔ ۔ ۔  زندگی کو مگر کون بتا ئے کہ اُ س کے نشتر سہہ سہہ کر اب روح کی شفّاف چاندنی میلی پڑ گئی ہے اور ناکامی کی پازیبیں ہمہ وقت پیروں میں بجتی رہتی ہیںجن کی گونج سے میری روح مزید لرز اٹھتی ہے اورمیرے اندرشور مچاتی آہٹیں میری آنکھوں میں مچلنے لگتی ہیں، میری پلکوں پہ بکھرنے لگتی ہیں۔

 اکثر میں سوچتی ہوں کہ یہ کس کا احساس ہے جو مجھ سے لکھواتا ہے، کبھی ایسا ہوتا ہے چاہ کر بھی نہیں لکھ پاتی ہوں اور کبھی ایسا ہوتا ہے نہ چاہتے ہوئے بھی بہت کچھ لکھ لیتی ہوں۔

 کبھی یوں بھی ہُوا کہ کسی احساس نے سوتے سے جھنجھوڑ کر اٹھا دیا تو وہ احساس میرے وجود میں زندگی بن کر بول اُٹھا۔ مجھے یاد ہے وہ رات کہ جب اک کاغذ پر میں کھردرے قلم کی نوک سے آڑھی ترچھی لکیریں کھینچ رہی تھی تو نجانے کب نیند کے دامن پر پھول پتیاں کاڑھنے لگی اور رات کے پچھلے پہر کسی خواب کی آہٹ سے آنکھ کھلی تو دیکھا اسی کاغذ پر انہی لکیروں کے درمیان آنسوؤں سے نہائے ہوئے کچھ لفظ بھی بکھرے پڑے تھے۔

 یہ لفظ کچھ بھی نہیں ہیں صرف میرے کُھلے ہاتھوں پر دھری ہوئی چند آہٹیں ہیں جو پیلی دھوپ کی مانند مجھے نرغے میںلیے ہوئے ہیں۔ پیلی دھوپ کی آمد غروب کی آمد ہوتی ہے اور میں سُرمئی شام کے کنارے لگی انہی آہٹوں کے درمیان جی رہی ہوں کہیں غزل کی صورت تو کہیں نظم کا لباس پہن کر۔

  جس طرح بادل آسمان کا تازہ حال بتاتے ہیں اُسی طرح خواب ذہن کے موسم کا پتہ دیتے ہیں اور پیلی دھوپ کے نرغے میں یہ آہٹیں جہاں’’میری ‘‘ ترجمان ہیں وہیں کئی بجھتی ہوئی آنکھوں میں لرزتے ہوئے آنسوؤں کی ردا اوڑھے بہتی ہوئی خواہشوں اور حسرتوں کی عکاسی کرتی ہیں،اور کہیں جگمگاتے ہوئی روشن دن کے چہرے پر سجے کٹے پھٹے اجالوں پر بکھرے رات کے زخموں کی کہانی سناتی ہیں۔ انہی آہٹوں سے اُلجھ کر میری سانسوں کا ریشم اتنا پھیل گیا ہے کہ اب سمیٹنا ممکن نہیں رہا ۔ یہ آہٹیں دیمک لگی خواہشوں کے وہ پنّے ہیں جن پر میری زندگی کا دیا ٹمٹما رہا ہے۔ کالی ہواؤں کا شور بڑھ رہا ہے اور پیلی دھوپ گہری سُرمئی ہو گئی ہے اور میں آہٹوں کے نرغے میں ، لہذا میں گہری سرمئی شام کے کنارے لگی یہ ’’ تیرے نام کی آہٹ ‘‘ زندگی کی خواہشوں سے ہوتے ہوئے حسرتوں کے پنّوں پر لکھ کر آپ کے حوالے کرتی ہوں کہ یہی احساس میرے ہونے کی گواہی ہے۔

 ہونے سے نا ہونے تک

ناہید ورک

« Previous PageNext Page »

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^